8 ستمبر 2026 - 20:23
امریکہ کے دو جنگی جہازوں پر حملہ، کیوں اور کیسے؟

ریاستہائے متحدہ، اپنے جہازوں کو اپنی فوجی برتری کی اہم علامت کے طور پر متعارف کراتی ہے۔ اگر ایران اپنے موجودہ رویئے کو جاری رکھتے ہوئے، اس بیڑے کو قابلِ ذکر نقصان پہنچاتا ہے، تو جنگ میں فتح کے علاوہ، جو موجودہ حصول یابی (Achievement) ہے، اس نے ریاستہائے متحدہ کی کئی دہائیوں پرانی فوجی طاقت کو طویل مدتی نقصان پہنچایا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کا امریکہ کے دو جنگی جہازوں پر حملہ، ایک پیچیدہ اور (حفظ ماتقدم پر مبنی) پیشگی آپریشن تھا اور اس قسم کے ہر اقدام کے لئے دو اہم عناصر کی ضرورت ہوتی ہے: 1۔ انٹیلی جنس کی مہارت۔ 2. حملے کے لئے درست فوجی آوزار بروئے کار لانا۔

 کچھ عرصہ قبل، برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ایرانی اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے لکھا: 'اگر ریاستہائے متحدہ چند ہفتوں کے اندر عبوری امن معاہدے کو مکمل طور پر نافذ نہ کر سکا اور سفارت کاری ناکام ہو گئی، تو تہران اسلامی جمہوریہ کے خلاف امریکہ کی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لئے ایک "بروقت اور درست" فوجی کاروائی کرے گا۔'

اس ایرانی اہلکار نے کہا تھا کہ تہران اپنی پالیسی کو 'دفاع سے حملے کی طرف' تبدیل کر رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری کے فوائد پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے بھی چند روز قبل واضح کیا تھا کہ 'بحری ناکہ بندی، بین الاقوامی قوانین کی رو سے، ایک فوجی اقدام کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر وہ ناکہ بندی کو بڑھانا چاہیں تو ہم مزید انتظار نہیں کریں گے اور بحری ناکہ بندی کا فوجی جواب دیں گے۔'

حال ہی میں، ریاستہائے متحدہ کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ایران نے امریکہ کے دو جنگی جہازوں کی طرف بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا: 'ایک امریکی طیارہ بردار جہاز اور ایک میزائل بردار ڈسٹرائر، ایران کے متعدد 'بلاوجہ' حملوں سے کامیابی کے ساتھ! بچ گئے! کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہؤا۔'

ایران کا ان دو جہازوں پر حملہ، ایک پیشگی (Pre-emptive) حملہ تھا اور اس قسم کے ہر اقدام کے لئے دو اہم عناصر کی ضرورت ہوتی ہے:

1۔ انٹیلی جنس مہارت۔

2۔ حملے کے لئے درست فوجی اوزار

ان دو عناصر کے علاوہ، سینٹ کام کا بیان کئی اور اہم امور کو بھی ثابت کرتا ہے:

1- تہران کے سیاسی اور فوجی عہدیداروں کا ایران کے جارحانہ رویے میں داخل ہونے پر زور، محض کاغذی نہیں ہے؛ بلکہ میدان میں اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

2- تہران کا اس بات پر زور کہ وہ موجودہ صورت حال کو برداشت نہیں کرے گا اور اس سے نکلنے کے لئے کشیدگی بڑھانے کو تیار ہے، یہ ایک منصوبہ بند معاملہ ہے اور اس کا پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے۔

3۔ ایران گذشتہ ہفتوں کے دوران، اپنی معلوماتی، شناخت اور عملیاتی (Operational) پزل مکمل کرنے میں مصروف تھا اور اس کے بعد، امریکی جہازوں کے خلاف کارروائی کے مرحلے میں داخل ہؤا۔

4۔ ایران کی مسلح افواج کے پاس امریکی جدید جہازوں کو، جو خود کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، تلاش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

5۔ یہ تعیینِ مقام (Allocation) اس وقت کی گئی جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے ریڈارز اور سراغ لگانے کے آلات تباہ کر دیئے ہیں!

6۔ تہران نے ثابت کرکے دکھایا کہ اس کے پاس امریکی بحری بیڑے پر حملہ کرنے کے لئے سیاسی عزم بھی ہے اور مناسب اوزار اور ہتھیار بھی۔

7۔ اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ سینٹ کام کا بیان درست ہے اور تمام امریکی فوجی اور متعلقہ جہاز ایرانی حملے سے جان بچا گئے ہیں، پھر بھی یہ بیان کے مطابق، یہ بیان ضمنی اعتراف ہے اس کا کہ ایران نے امریکی جہازوں کو درست نشانہ بنایا ہے اور اس کی کاروائی بالکل درست تھی۔

ایالات‌متحده، ناوهای خود را نماد اصلی برتری قدرت نظامی معرفی می‌کند. اگر ایران در ادامه رویکرد فعلی، آسیب قابل‌توجهی به این ناوگان وارد کند، علاوه بر پیروزی در جنگ که دستاورد فعلی است، ضربه‌ای بلندمدت به قدرت نظامی چند دهه‌ای ایالات‌متحده وارد کرده است."

کئی دہائیوں کی پابندیوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ امریکی اقتصادی دباؤ ـ اور بحری ناکہ بندی جو اس منصوبے کا ایک حصہ ہے، ـ کا مسئلہ دباؤ کے اوزار کے ذریعے حل ہونا چاہئے۔

یہ اوزار اقتصادی ہو سکتا ہے، جیسے آبنائے ہرمز کی بندش؛ فوجی بھی ہو سکتا ہے، جیسے دشمن کے بحری بیڑے پر حملہ؛ اور سیاسی بھی ہو سکتا ہے، جیسے مفاہمت پر عمل درآمد کے لئے دباؤ۔

دوسرا نکتہ یہ کہ امریکہ کی فوجی طاقت کی بنیاد اس کے بحری بیڑے پر استوار ہے اور اس ملک کی دہشت گرد فوج کی کارروائیوں کا بڑا حصہ اس کی بحریہ کے کندھوں پر ہے۔

ریاستہائے متحدہ، اپنے جہازوں کو اپنی فوجی برتری کی اہم علامت کے طور پر متعارف کراتی ہے۔ اگر ایران اپنے موجودہ رویئے کو جاری رکھتے ہوئے، اس بیڑے کو قابلِ ذکر نقصان پہنچاتا ہے، تو جنگ میں فتح کے علاوہ، جو موجودہ حصول یابی (Achievement) ہے، اس نے ریاستہائے متحدہ کی کئی دہائیوں پرانی فوجی طاقت کو طویل مدتی نقصان پہنچایا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: علی رضائی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha